کاروار 4؍نومبر (ایس او نیوز) گزشتہ دس تا پندرہ برسوں سے سی برڈ بحری اڈے پر ٹھیکے کی بنیاد پر سیکیوریٹی گارڈ کی نوکری کرنے والے 90افراد کو اچانک برطرف کردیا گیا ہے۔ برطرف شدہ تمام افراد ان خاندانوں میں سے ہیں جنہیں بحری اڈے کے لئے اپنے گھربار اور زمینات کو حکومت کی تحویل میں دینا پڑا تھا اور اس علاقے سے ہجرت کرکے دوسرے مقامات پر آباد ہونا پڑا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ سیکیوریٹی گاڑس کے بطور ملی ہوئی یہ نوکری ان بے سہاراخاندانوں کا ایک ہی مالی وسیلہ تھی، جو بالآخر چھین لیاگیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جب ان خاندانوں کی زمینات قومی دفاعی مقصد کے لئے حکومت اپنی تحویل میں لے رہی تھی، اس وقت سرکارکی طرف سے طے شدہ معاوضہ اداکرنے کے علاوہ ہر خاندان سے ایک فرد کو بحری اڈے میں ملازمت فراہم کی جائے گی۔ہر خاندان کو تو بحریہ کے افسران نے نوکری نہیں دی تھی، البتہ کچھ خاندانوں کے کم تعلیم یافتہ افراد کو سیکیوریٹی گارڈ کے بطورٹھیکے پر ملازم رکھ لیا گیا تھا۔اور دس تا پندرہ سال گزرجانے کے باوجود انہیں مستقل ملازم کے زمرے میں نہیں لیا گیا تھا۔اب اچانک انہیں برطرف کیے جانے سے سب لوگ بہت ہی پریشان ہوگئے ہیں۔ان لوگوں کا کہنا ہے اگر انہیں ملازمت پر بحال نہیں کیا گیاتو پھر وہ کسی بھی حد تک احتجاج کرنے کے لئے تیار ہیں۔
کرناٹکا رکھشنا ویدیکے کی جانب سے ضلع ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم دیتے ہوئے درخواست کی گئی ہے کہ برطرف کیے گئے ان افراد کو واپس ملازمت پر بحال کرتے ہوئے ان بے سہارا اور مجبور خاندانوں کی مدد کی جائے۔اس کے علاوہ مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتارامن ، رکن پارلیمان اننت کمارہیگڈے، ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے، کاروار رکن اسمبلی روپالی نائک، ضلع ایس پی وغیرہ کو بھی میمورنڈم دیتے ہوئے اس ضمن میں مناسب اقدام کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔